Jago Pakistan Jago – 23rd January 2013 (Make-up Tips)

Posted on Wednesday, January 23rd, 2013 at 1:08 pm and filed under Hum Tv Dramas, Jaago Pakistan Jaago .
Jago Pakistan Jago – 23rd January 2013 (Make-up Tips)
VN:F [1.9.22_1171]
Rating: 6.6/10 (16 votes cast)
Jago Pakistan Jago - 23rd January 2013 (Make-up Tips), 6.6 out of 10 based on 16 ratings
  • Shoeib Hassan

    لڑکیوں کی تعلیم کو ناجائز کہنے والے گستاخِ رسول ہیں،ڈاکٹر عامر لیاقتکراچی(جنگ نیوز)معروف نوجوان اسکالر اورمیزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ ”بچوں کے ساتھ پروگرام کرنا بہت اچھا لگتا ہے، ہفتے میں ایک پروگرام بچوں کے ساتھ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں،لڑکیوں کی تعلیم کو ناجائز کہنے والے گستاخِ رسول ہیں،مرد کانفس کمزور اور عورت کامضبوط ہوتا ہے،خواتین کے پردے پر بحث نہیں ہونی چاہئے، جوپردہ کررہی ہیں وہ متقی ہیں،وہ پردہ نہ کرنے والیوں کو برا نہ کہیں ہوسکتا ہے کہ کل وہ بھی پردہ کر کے متقی ہو جائیں۔ مردوعورت میں اللہ تعالیٰ نے کوئی فرق نہیں رکھا ہے، عورت فطرتاًجذباتی ہوتی ہے، اس لئے اسے فیصلے سے قبل مشورہ لے لینا چاہئے۔ والدین کی جانب سے اولاد کی شادی نہ کرنا غلط ہے، یہ شریعت کے خلاف ہے، نبی اکرم نے فرمایا تھا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ شادی مشکل اور زنا آسان ہوگا “انہوں نے ان خیالات کااظہار جیو ٹی وی کے پروگرام ”اٹھو جاگو پاکستان“ کے خصوصی پروگرام میں کیا۔اس پروگرام میں حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور خواتین کے حقوق فرائض، اسلام میں بیٹی کے مقام اور اس کی تربیت کے بارے میں بات کی گئی۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے حالیہ مصروفیات کے بارے میں بتایا کہ ہم اس بار 12ربیع الاول کو ”جشنِ صبحِ بہاراں“کے عنوان سے خصوصی نشریات داتا دربار لاہور سے براہِ راست پیش کریں گے،نبی اکرم کا ذکر ہے اور یہ بہت بڑا، عظیم اور مبارک ذکر ہے اس کے لئے بھرپور تیار ی ہورہی ہے اور میں آج کل مطالعے میں مصروف ہوں۔اسلام میں عورت بالخصوص بیٹی کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت محمد کے سامنے جب کبھی آپ کی بیٹیاں آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے تھے۔حضرت محمد کے پاس جب بھی کوئی اچھی چیز آتی توآپ سب سے پہلے اپنی بیٹیوں کو دیتے تھے،پھر اُن سے پوچھتے تھے کہ انہیں تحفہ کیسا لگا۔ایک بار محفل میں نبی اکرم گفتگو فرما رہے تھے،آپ نے صحابہ کرام سے پوچھا کہ عورت کا کیا مطلب ہے؟صحابہ کرام نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول بہتر جانتے ہیں۔حضرت علی اجازت طلب کرکے اندر گئے اور تھوڑی دیر بعد اس سوال کا جواب دیا کہ عورت وہ ہے جسے کسی نامحرم نے نا دیکھا ہو اور جس نے کسی نا محرم کو نہ دیکھا ہو۔ یہ جواب سن کر آپ نے تبسم فرمایا اور کہا کہ علی تم فاطمہ سے پوچھ کر آئے ہو، حضرت علی نے کہا کہ جی ہاں ، اس پر حضرت محمد ﷺ نے کہا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، یہ بات فاطمہ ہی بتا سکتی تھیں۔ یہ نبی کی اپنی بیٹی سے محبت اور تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔شو میں موجود آڈینس اور ٹیلی فون پر ناظرین نے ڈاکٹر عامر لیاقت سے مختلف سوالات کئے۔ نکاح میں لڑکی کی رضا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شادی کے وقت لڑکی کی رضا مندی معلوم کرنا بہت ضروری ہے ،والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کو اس رشتے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کریں اور اگر وہ قائل نہ ہو تو اس رشتے سے پہلو تہی کریں۔ خواتین کی ڈرائیونگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حضرت محمد جب غارِحرا میں عبادت میں مصروف تھے تو اس وقت حضرت خدیجہ غارِ حرا میں کھانا لے کر آتی تھیں۔غارِ ثور میںآ پ حضرت ابوبکرصدیق کے ساتھ رہے تو اس وقت ان کی صاحبزادی حضرت اسوہ کھانالے کر آتی تھیں، کچھ جنگوں میں حضرت عائشہ اور دیگر امہات المومنین نے زخمیوں کی مرہم پٹی بھی کی ہے۔ جنگ ِ جمل میں حضرت عائشہ نے اونٹنی پر سواری کی تھی، یہ بھی ایک طرح کی ڈرائیونگ ہی ہے۔ خواتین ڈرائیونگ کے علاوہ ہرجائز کام پردے میں رہ کرکرسکتی ہیں۔ غیر محرموں سے بات کرتے ہوئے خواتین کا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ سامنے والے کو کسی قسم کی غلط فہمی نہ ہو۔ خواتین کی ملازمت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کمانا مرد کی ذمہ داری ہے البتہ کچھ کیسز مستثنیٰ ہوتے ہیں، جہاں کوئی کفیل اور کمانے والا نہ ہو وہاں خواتین پردے کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے کام کرسکتی ہیں۔خواتین کو چاہیے کہ ہر حال میں اپنی نسوانیت اوروقار کا خیال رکھیں۔ ”اگر خدا کے بعد کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو ہ شوہر ہوتا“اس حدیث کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر نے کہا کہ اس حدیث کے ذریعے ہماری خواتین کویہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ شوہر کی اطاعت کریں لیکن گناہ کے کاموں میں نہیں، گناہ کے کاموں میں میاں کی اطاعت واجب نہیں ہے۔عبادت کا جرم سے تعلق نہیں ہے، نمازی بھی مجرم ہو سکتے ہیں،مجرم کے حافظِ قرآن اور نماز کا ذکر کرنا غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ میں شادی کے لئے لڑکے والوں کے سامنے لڑکیوں کی نمائش کو پسند نہیں کرتا، لڑکی کی تصویر گھر والوں کو دیکھ لینی چاہئے، یہ مسئلہ گھر کی خواتین ہی اسٹینڈ لے کر ختم کر سکتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کو ناجائز کہنے والے گستاخِ رسول ہیں کیونکہ نبی نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مردوعورت پر فرض ہے۔ مغرب علم کو حق جبکہ اسلام فرض قرار دیتا ہے۔نبی کریم کے سلسلے میں وصال اور انتقال کے الفاظ استعمال کرنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر نے کہا کہ انتقال کا مطلب منتقل ہونا ہے، ہم سب لوگ دنیا سے علین یا سجین میں جاتے ہیں اس لئے ہم ایک طرح سے منتقل ہوتے ہیں،وصال کا مطلب ہوتا ہے ملنا، یہ عموماً محبت اور پیار میں استعمال ہوتا ہے،حضرت محمد کے ذکر پر پردہ فرمانا کہنابہتر ہے، ہر نبی کے ساتھ اس کا معجزہ چلا گیاہے لیکن ہمارے پیارے نبی حضر ت محمد کا معجزہ قرآن آج بھی فائدہ پہنچا رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ نبی حیات ہیں، اس لئے کہنا چاہیے کہ نبی پردہ فرما گئے ۔ خواتین کی گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لڑکی کی شادی کا مطلب شوہر اور سسرال والوں کی خدمت نہیں ہے۔ ازواجِ مطہرات نبی کی خدمت کو سب سے بڑا اعزاز سمجھتی تھیں لیکن وہ شوہر سمجھ کر نہیں بلکہ نبی سمجھ کر عزت کرتی تھیں۔ ہمارے نبی حضر ت محمد کو اپنی ازدواج سے خدمت لینا اچھا نہیں لگتا تھا اس لئے وہ بہت سے گھر کے کام بھی خود کرتے تھے۔ حدیث پاک ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر سے بچے کودودھ پلانے کا معاوضہ طلب کر ے تو وہ بھی خاوند کو دینا ہوگا۔آج کل خواتین اگر گھروالوں کی عزت کریں تو وہ ہی سب سے بڑی خدمت ہے۔اس موقع پر میزبان ڈاکٹر شائستہ نے اپنی طلاق کے حوالے سے ڈاکٹر عامر سے رائے طلب کی ۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر نے کہا کہ طلاق ایک تکلیف دہ عمل ہے،اس طلاق کے نتیجے میںآ پ کو تنہا اپنے بچوں کیلئے والدہ اور والددونوں کی ذمہ داریاں اٹھانا ہوں گی، اللہ کسی پرندے کے گھونسلے کوبھی برباد نہیں کرتا،یہ انسان کے شامتِ اعمال ہوتے ہیں۔ شائستہ آپ نے یہ تکلیف دہ دور بہت ہمت سے گزارا ، آپ پر تہمتیں بھی لگائی گئیں ،جنہوں نے آپ پر الزامات لگائے وہ انہیں پر لوٹ کر جائیں گے۔میں آپ سے یہی کہوں گا کہ جب آپ کی طلاق واقع ہو جائے تو آپ اسکرین سے دور رہ کر اپنی عدت مکمل کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ کی والدہ نے بھی ٹیلی فون پر ڈاکٹر عامر سے بات کی اور ان کے فنِ خطابت ، اندازِ گفتگو اور نعت خوانی کو سراہااور کہا کہ میں آپ کی فین ہوں۔ انہوں نے ڈاکٹر عامر سے معاشرے میں قول و فعل میں تضاد کے بارے میں سوال کیا ۔ڈاکٹر عامر لیاقت نے تعریف کے جواب میں کہا کہ آپ نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ خود ایک عظیم خاتون ہیں۔سوال کا جوب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں اچھے کاموں کے لئے صرف گفتگو ہوتی ہے لیکن عملی طور پر اچھے کاموں کو نافذ ہونے نہیں دیتے۔ دعاؤں کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔جنگِ بدر میں تقریباً ایک ہزارکفار کے مقابلے میں صرف تین سو تیرہ مسلمان تھے۔ صحابہ کرام نے کہا کہ نبی کریم آپ ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے ایک اونچے مقام پر دعا کی ، اس مقام پر مسجد بنا دی گئی ہے ۔آپ نے دعا کی کہ یا اللہ مدد فرما ، اگر آج ان مسلمانوں کی مدد نہ کی تو دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی نہ ہوگا،آپ نے دعا تو کردی اور آپ کی دعا تو قبول ہونا ہی تھی لیکن جنگ تو پھر بھی لڑنا ہی تھی، جنگ لڑے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی تھی۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ دعا سے کچھ نہیں ہوتا یا صرف دعا ہی کافی ہے۔ دعا کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ڈاکٹر عامر نے شو کے اختتام پر ”میں تو پنجتن کا غلام ہوں“ بھی پیش کی۔ جمعرات کو ”اٹھو جاگو پاکستان“ میں خواتین کی محفلِ میلاد کی تقریب پیش کی جائے گی۔ اس تقریب میں میزبان ڈاکٹر شائستہ بھی اپنے خیالات کااظہار کریں گی اور ملک کی مشہور نعت خواں خواتین امِ حبیبہ، منیبہ شیخ، تحریم ودیگر نعت اور درود وسلام پیش کریں گی۔ یہ پروگرام ناظرین صبح 09بجے جیو ٹی وی سے دیکھ سکیں گے۔

  • elated_one

    plz upload in tune video…..

  • Sairaj Durrani

    جیو ٹی وی کے پروگرام اٹھو جاگو پاکستان میں معروف نوجوان اسکالر اور ہر دلعزیز میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے شرکت کی، شو کی میزبان ڈاکٹر شاءستہ کے ڈاکٹر عامر لیاقت نے عید میلاد النبی ﷺ کی مبارک ساعتوں اور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس سے متعلق اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا۔ اور عورت:حقوق و فرائض اور احکامات ، اسلام میں خواتین کا مقام، اسلامی معاشرے میں بیٹی کے حقوق کے عنوانات پر شرکاء اور براہ راست فون کالز کے سوالات کے جوابات دیے۔

    • ishmal

      so what !!!

next-hover prev-hover Postborder Remove Favorite Lights Off